آخری سیلیوٹ (سعادت حسن منٹو) یہ کشمیر کی لڑائی بھی کچھ عجیب و غریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا جس کا گھوڑا خراب ہو گیا ہو۔ پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ مارنا اور مرنا جانتا تھا۔ چھوٹے بڑے افسروں کی نظر میں اسکی بڑی توقیر تھی، اس لیے کہ وہ بڑا بہادر، نڈر اور سمجھدار سپاہی تھا۔ پلاٹون کمانڈر مشکل کام ہمیشہ اسے ہی سونپتے تھے اور وہ ان سے عہدہ برآہوتا تھا۔ مگر اس لڑائی کا ڈھنگ ہی نرالا تھا۔ دل میں بڑا ولولہ، بڑا جوش تھا۔ بھوک پیاس سے بے پرواہ صرف ایک ہی لگن تھی دشمن کا صفایا کر دینے کی، مگر جب اس سے سامنا ہوتا تو کچھ جانی پہچانی صورتیں نظر آتیں۔ بعض دوست نظر آتے، بڑے بغلی قسم کے دوست جو پچھلی لڑائی میں اس کے دوش بدوش، اتحادیوں کے دشمن سے لڑے تھے، پر اب جان کے پیاسے بنے ہوئے تھے۔ صوبیدار رب نواز سوچتا تھا کہ یہ سب خواب تو نہیں۔ پچھلی بڑی جنگ کا اعلان۔ ۔ ۔ بھرتی، قد اور چھاتیوں کی پیمائش، پی ٹی، چاند ماری اور پھر محاذ۔ ۔ ۔ ادھر سے اُدھر، اُدھر سے ادھر، آخر جنگ کا خاتمہ۔ ۔ ۔ پھر ایک دم پاکستان کا قیام اور ساتھ ہی کشمیر کی لڑائی۔ اوپر تلے کتنی چیز...