Skip to main content

ایک سچ ایک سبق

اندلس کا آخری بادشاہ ابو عبداللہ محمد زاروقطار رورہا تھا ۔ اس کی نظریں نیچے گہرائی میں الحمرا شہر کی طرف تھی ۔ اس نے اپنے دور حکومت میں بے شمار غلطیاں کی تھی۔ اب یہ غرناطہ کی ایک پہاڑی پر کھڑا اپنی ڈوبتی ہوئی سلطنت کو آخری بار دیکھ رہا تھا ۔
اس موقع پر عبد اللہ کی ماں ، جس نے بیٹے کو گھوڑے سے اترتے ، زمین پر بیٹھتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ،نے اس نالائق اور کوتاہ فہم بادشاہ کے کندھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور دکھ میں بھیگی آواز یہ تاریخی جملہ کہا ۔
" بدنصیب بادشاہ تم جس سلطنت کو مردوں کی طرح بچا نہ سکے عورتوں کی طرح اب اس کے لیے آنسو نہ بہائو "
۔
یہ وہی بادشاہ ہے جس نے فرنینڈس سے لڑائی کے وقت اپنے مشیروں اور علماء سے مشورہ کیا تھا کہ لڑائی کی جائے یا نہیں ، تو اس وقت کے علماء نے بھی مشورہ دیا تھا کہ لڑائی نہ کی جائے ورنہ ہم ماریں جائیں گے اور صلح کی طرف ہاتھ بڑھایا جائے ، پھر ایسا ہی ہوا صلح ہو گئی لیکن چند مہینوں پر عیسائیوں کی طرف سے ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم ہوا کہ ہلاکو خان کی روح بھی کانپ گئی ، اور ان مشیروں ، وزیروں اور علماء کے سر چوکوں میں لٹکائے گئے ۔
۔
آج پاکستان میں بھی ایساقبیل پیدا ہو چکا ہے جو قوم کو بزدلی کی راہ دکھاتا رہتا ہے اور مغرب سے مرغوب ہوکر تباہی سے ڈراتا ہے ، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی تاریخ صرف 1400 سال پہلے ختم نہیں ہوئی بلکہ وہاں سے شروع ہوئی ہے اور تا قیامت رہے گی ، جو جذبات اور اللہ کی نصرت اس وقت تھی وہ اب بھی پیداہو سکتی ہے ، مرنا تو ہے ہی تو پھر بزدلی کی موت کیوں ؟

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت  کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گر...

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...