Skip to main content

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

Image result for ‫پرویز خٹک‬‎وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گراؤنڈ ٹوپی کا افتتاح کیا۔ افتتاحی جلسے سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ این اے ۔13 گیس کی فراہمی کے منصوبے کا افتتاح غریب عوام کیلئے صوبائی حکومت کا ایک تحفہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی منظوری کیلئے چار سال مسلسل محنت کی ۔صوبائی حکومت نے 30 کروڑ روپے جمع کرادیئے جبکہ 18 کروڑ مزید جمع کرائیں گے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے پیسے جمع کرانے کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں اور جب عدالت کے حکم پر ہمارے پیسے داخل کئے گئے تھے اور صوبائی حکومت نے عوام کو گیس کی فراہمی کیلئے سکیمیں منظور کرائیں تو امیر مقام کو اپنی سیاست یاد آ گئی ۔ صوبائی حکومت کی سکیموں اور وسائل پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہے۔ یہی معاملہ نوشہر ہ میں بھی پیش آیا۔ وسائل ہمارے ، محنت ہماری اور افتتاح اور بورڈ اپنے لگانے لگیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ کوئی گپ شپ نہیں ہے ۔امیر مقام کو سنجیدگی کا مظاہر ہ کرنا چاہیئے اور صوبائی حکومت کے کاموں میں چھیڑ چھاڑ چھوڑ دے۔پرویز خٹک نے کہاکہ وزیر اعظم بھی گیس کے افتتاح کی باتیں کرتے ہیں اُنہیں چاہیئے کہ ہمارے پیسے واپس کردیں اور اپنے پیسوں سے افتتاح کریں۔ پرویز خٹک نے کہاکہ سیاسی مجرموں نے اس صوبے کو ہمیشہ حقوق سے محروم رکھا ۔ اُن کی حکومت نے صوبے کے حقوق کیلئے چار سال طویل جدوجہد کی ۔پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے شیئر کیلئے جھگڑا کیا۔ اپنا حق حاصل کیا ۔ سابق صوبائی حکومت کے ذمے وفاق کا واجب الادا قرضہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ نااہل سیاسی لیڈروں نے تعلیم، صحت ، پولیس اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں پر بھی سیاست کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تعلیم ترقی کی بنیادہے مگر ہمارے سیاستدانوں اور عوام کی سوچ بڑی سخت رہی ہے۔سیاستدانوں نے گلی نالی کی سیاست کی ۔ عوام نے بھی گلی اور نالی کی تعمیر پر اپنا ووٹ دیا۔ قومی ترقی، خوشحالی اور اپنے بچوں کے مستقبل کی کسی نے فکر نہیں کی ۔عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات میسر ہیں کہ نہیں کسی نے نہیں سوچا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ بنیادی چیزیں ہیں جن کی فراہمی سے معاشرے خوشحال ہو تے ہیں۔ عوام کو چاہیئے کہ صحت ، تعلیم ، انصاف اور اپنے حقوق کیلئے جھگڑا کریں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں سکولوں پر بھی سیاست کی گئی۔ دو کمرے ، چھ کلاسیں اور دو اُستاد تھے۔یہ ایک قسم کا عوام کے ساتھ ظلم ہے جس کے لئے سیاسی لوگ مجرم ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہسپتالوں کی بھی یہی حالت تھی ۔نہ ڈاکٹر موجود تھے نہ غریب کو دوائی دستیاب تھی ۔مگر آج ہم چیلنج کرتے ہیں کہ صوبہ بھر کے ہسپتالوں اور سکولوں میں عملہ اور سہولیات موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں پولیس بھی سیاستدانوں کی غلام تھی ۔موجودہ صوبائی حکومت نے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے پولیس کو بااختیار بنایا۔اس کے بدلے میں تھانوں میں غریب کو عزت ، مقام اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی ۔وزیراعلیٰ نے نظام کی شفافیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں ایزی لوڈ ایس ایم ایس کا نظام تھا ۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اس کے خلاف چار سال مسلسل جدوجہد کی اور ایسی قانون سازی کی کہ بدعنوانی کی کوئی جرات نہ کرسکے۔انہوں نے عوام سے کہاکہ ہمت کریں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں ۔کرپشن ، چوری اور رشوت کی نشاندہی کریں ۔قانون حرام خوروں کو نہیں چھوڑے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت کو غریب کی فکر ہے۔تحریک انصاف ضرور ت مندوں کیلئے کھڑی ہے۔ ہمارے تمام اصلاحاتی اقدامات کا مرکز و محورغریب عوام ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...