پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔
ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔
اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع پر ایسے ہی ایک شخص کے دروازے پر دستک ہوئی تو وہ سمجھا کہ شاید کوئی مسافر، ضرورت مند ہوگا۔ دروازہ کھولا تو آگے رحمت اللعالمین ﷺ کھڑے تھے۔ پوچھا کیا کام ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں تمہیں دین کی دعوت دینے آیا ہوں۔
اس شخص نے حیران ہو کر کہا کہ اتنے خراب موسم میں کیوں چلے آئے؟ انتظار کرلیا ہوتا، کل آجاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے سوچا کہ شاید اس وقت اللہ نے تمہارے دل کو نرم کردیا ہو، یہی سوچ کر دعوت دینے آگیا۔
اس شخص نے حیران ہو کر کہا کہ اتنے خراب موسم میں کیوں چلے آئے؟ انتظار کرلیا ہوتا، کل آجاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے سوچا کہ شاید اس وقت اللہ نے تمہارے دل کو نرم کردیا ہو، یہی سوچ کر دعوت دینے آگیا۔
ایک طرف ہمارے نبی پاک ﷺ، جو خود چل کر لوگوں کی منت سماجت کرکے انہیں دین کی دعوت دیتے تھے تاکہ وہ جہنم سے بچ جائیں، دوسرے طرف ہمارے موجودہ ملاؤں کو دیکھ لیں، جن کی کوشش ہی یہ ہے کہ ان کے علاوہ جنت میں کوئی نہ جاسکے۔
اتنا بہترین دین، اتنی بہترین امت ہونے کے باوجود موجودہ مسلمانوں کی حالت دیکھ لیں۔ ایسی پستی، ایسی رسوائی!!! بقلم خود باباکوڈا
Comments
Post a Comment