" یہ مت پوچھو کہ ملک نے تم کو کیا دیا، یہ بتاؤ کہ تم ملک کیلئے کیا کرسکتے ہو؟ "
آپ نے اکثر یہ ڈائیلاگ مختلف کالموں میں پڑھا ہوگا یا ٹی وی پر سنا ہوگا۔ یہ تاریخی جملہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 20 جنوری 1961 کو صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں امریکی عوام سے کہا تھا۔ صدر بننے کے تقریباً 2 سال بعد کینیڈی کو ٹیکساس کی ریاست میں کسی شخص نے قتل کردیا جس میں سوویت یونین کے ملوث ہونے کا شک کیا گیا کیونکہ کینیڈی نے اپنے دو سال کے عرصے میں سردجنگ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
کینیڈی کا ایک چھوٹا بھائی ٹیڈ کینیڈی بھی تھا جو کہ 30 سال کی عمر میں 1962 میں میساچیوسٹس نامی سٹیٹ کا سینیٹر منتخب ہوا۔ صدر کینیڈی کے قتل کے بعد ٹیڈ کینیڈی ایک مرتبہ پھر بھاری ووٹوں سے سینیٹر منتخب ہوگیا اور مرحوم صدر کی مقبولیت کی وجہ سے ٹیڈ کینیڈی بھی اپنی ریاست کے ساتھ ساتھ پورے امریکہ میں مقبول ہوتا گیا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ 1972 کے الیکشن میں ڈیموکریٹس کا متفقہ صدارتی امیدوار بن کر بغیر کسی مشکل کے امریکہ کا صدر منتخب ہوجائے گا۔
18 جولائی 1969 کو ٹیڈ کینیڈی نے شہر سے دور ایک جزیرے پر اپنے چند دوستوں کیلئے ایک پارٹی رکھی جس میں اس کی سیاسی کولیگز خواتین بھی شریک ہوئیں۔ رات ساڑھے 11 بجے اس نے جزیرے سے واپس جانے کا ارادہ کیا تو وہاں موجود ' میری جو ' نامی ایک 28 سالہ خوبرو خاتون نے بھی اس کے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کردی، چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر جزیرے سے واپس چلا گیا۔
راستے میں اندھیرے کی وجہ سے ٹیڈ راستہ بھٹک گیا اور اس نے غلطی سے گاڑی سڑک سے ہٹا کر ایک پگڈنڈی پر ڈال دی جو آگے جا کر دریا میں ختم ہوتی تھی اور سامنے کوئی رکاوٹ بھی موجود نہیں تھی۔ قصہ مختصر، جب تک ٹیڈ کو خبر ہوتی، اس کی گاڑی دریا میں ڈوب چکی تھی۔ اس نے اپنی کولیگ کو آواز دی لیکن وہ شاید بے ہوش ہوچکی تھی، چنانچہ ٹیڈ اپنی گاڑی سے نکلا، تیرتے ہوئے دریا سے باہر آگیا، تھوڑی دیر سانس بحال کی اور ایک مرتبہ پھر دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی ساتھی خاتون کو تلاش کرنے نکل گیا ۔ ۔۔ گاڑی کے قریب پہنچ کر اسے پھر اپنے ساتھ تیرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور واپس تیر کر دریا سے باہر آگیا۔
وہاں سے وہ واپس فارم ہاؤس گیا اور اپنے ساتھیوں کو اس حادثے کے بارے میں اطلاع کی، وہ اس کے ساتھ دریا پر آئے، ٹیڈ نے ایک مرتبہ پھر دریا میں چھلانگ لگائی تاکہ خاتون کو باہر نکال سکے لیکن ایک مرتبہ پھر ناکام رہا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ پولیس کو اس حادثے کی رپورٹ کرے۔ ٹیڈ اپنی بدنامی اور سیاسی طور پر مضمرات کی وجہ سے پریشان تھا، وہ اپنے گھر چلا گیا، ساری رات اپنے وکیل اور احباب سے مشورے کئے اور اگلے دن صبح 10 بجے پولیس سٹیشن جا کر ساری صورتحال بتا دی۔
پولیس نے جائے وقوعہ پہنچ کر گاڑی برامد کرلی اور خاتون کی لاش بھی باہر نکال لی۔ پولیس نے فوری طور پر سٹیٹ کے سینیٹر اور ملک کے مقبول ترین سیاستدان پر اس بات کا مقدمہ درج کردیا کہ وہ جائے حادثہ سے فرار ہوگیا اور پولیس کو رپورٹ کرنے میں 10 گھنٹے کی تاخیر کردی۔ تین دن کے اندر اندر استغاثے نے جج کے روبرو سارا مقدمہ پیش کیا اور جج نے ' جائے حادثہ سے فرار اور پولیس کو رپورٹ نہ کرنے ' جیسے سنگین جرم پر ٹیڈ کینیڈی کو سزا دینے کا فیصلہ کیا لیکن چونکہ وہ اس وقت 37 برس کا تھا، اس کا سابقہ ریکارڈ مکمل کلین تھا اور اس کی شہرت بہت اچھی تھی، اس لئے جج نے اس جرم کی کم سے کم سزا جو کہ دو سال جیل بنتی تھی، سنا دی اور اس کے ساتھ ساتھ بطور سینیٹر اور کلین ریکارڈ کی وجہ سے یہ سزا معطل بھی کردی لیکن اس کے ساتھ ہی اس جج نے ایک جملہ بھی کہہ دیا کہ:
" ٹیڈ کینیڈی کو اپنی غفلت کی سزا مل چکی ہے اور اس سے آگے بھی یہ سزا ملتی رہے گی، وہ سزا جو کہ یہ عدالت بھی نہیں دے سکتی!!! "
اس واقعے کے بعد ٹیڈ کینیڈی نے ٹی وی پر اپنی ریاست کے عوام سے ایک براہ راست خطاب کیا، انہیں تمام واقعہ بتایا، اپنی غلطی کا اقرار کیا اور ان سے رائے طلب کی کہ اگر وہ چاہیں تو وہ استعفی دے کر گھر چلا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ اپنی رائے کا اظہار بزریعہ خط اس کے دفتر اور اخبارات کو ارسال کردیں۔
عوام نے یہ رائے دی کہ چونکہ بطور سینیٹر وہ اس کی پرفارمنس سے خوش تھے اور چونکہ اس حادثے میں اس کی غلطی نہیں تھی، اس لئے وہ بطور سینیٹر اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کے دو سال بعد عوام نے اسے ایک مرتبہ پھر بھاری اکثریت سے سنینیٹر منتخب کرلیا۔
لیکن ۔ ۔ ۔ ۔
عوام نے ٹیڈ کینیڈی کو بطور امریکی صدر مکمل طور پر مسترد کردیا۔ عوام کے خیال میں ملک کے صدر کیلئے جو مطلوبہ ' قوت فیصلہ ' درکار ہوتی ہے، وہ ٹیڈ کینیڈی کے پاس نہیں ورنہ وہ فوری طور پر پولیس کو مطلع کرکے اپنی ساتھی خاتون کی جان بچا سکتا تھا۔
ٹیڈ کینیڈی مسلسل 47 سال تک ریاست میسا چیوسٹس کا سینیٹر منتخب ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ 2009 میں انتقال کرگیا۔ بطور سینیٹر عوام اس سے خوش تھے لیکن اس کی ایک چھوٹی سی غلطی ان کیلئے ناقابل برداشت تھی جس کی وجہ سے اس کا صدر بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔
یہ 1969 کا واقعہ ہے جب امریکی عوام کا شعور شاید اتنا بلند نہیں ہوا کرتا تھا لیکن پھر بھی اتنا ضرور تھا کہ وہ دیکھ سکتے کہ کون ان کیلئے ایک ایک بہتر لیڈر ثابت ہوسکتا ہے اور کون نہیں۔ اسی لئے امریکہ ہمیشہ سے مضبوط رہا اور ایک عالمی طاقت بنا رہا۔
کل نوازشریف کی گاڑی تلے ایک بچہ کچلا گیا اور عوام کا عالم یہ ہے کہ وہ گوجرانوالہ میں اسے بٹیر اور سری پائے کھلانے کیلئے بے تاب نظر آئے۔
قصور نوازشریف کا نہیں بلکہ اس عوام کا ہے جسے آج تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ کون اس ملک کیلئے بہتر ہے اور کون نقصان دہ۔
آپ پاکستان اور امریکہ کا موازنہ کرلیں، نتیجہ آپ کے سامنے ہے!!! بقلم خود باباکوڈا
آپ نے اکثر یہ ڈائیلاگ مختلف کالموں میں پڑھا ہوگا یا ٹی وی پر سنا ہوگا۔ یہ تاریخی جملہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 20 جنوری 1961 کو صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں امریکی عوام سے کہا تھا۔ صدر بننے کے تقریباً 2 سال بعد کینیڈی کو ٹیکساس کی ریاست میں کسی شخص نے قتل کردیا جس میں سوویت یونین کے ملوث ہونے کا شک کیا گیا کیونکہ کینیڈی نے اپنے دو سال کے عرصے میں سردجنگ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
کینیڈی کا ایک چھوٹا بھائی ٹیڈ کینیڈی بھی تھا جو کہ 30 سال کی عمر میں 1962 میں میساچیوسٹس نامی سٹیٹ کا سینیٹر منتخب ہوا۔ صدر کینیڈی کے قتل کے بعد ٹیڈ کینیڈی ایک مرتبہ پھر بھاری ووٹوں سے سینیٹر منتخب ہوگیا اور مرحوم صدر کی مقبولیت کی وجہ سے ٹیڈ کینیڈی بھی اپنی ریاست کے ساتھ ساتھ پورے امریکہ میں مقبول ہوتا گیا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ 1972 کے الیکشن میں ڈیموکریٹس کا متفقہ صدارتی امیدوار بن کر بغیر کسی مشکل کے امریکہ کا صدر منتخب ہوجائے گا۔
18 جولائی 1969 کو ٹیڈ کینیڈی نے شہر سے دور ایک جزیرے پر اپنے چند دوستوں کیلئے ایک پارٹی رکھی جس میں اس کی سیاسی کولیگز خواتین بھی شریک ہوئیں۔ رات ساڑھے 11 بجے اس نے جزیرے سے واپس جانے کا ارادہ کیا تو وہاں موجود ' میری جو ' نامی ایک 28 سالہ خوبرو خاتون نے بھی اس کے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کردی، چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر جزیرے سے واپس چلا گیا۔
راستے میں اندھیرے کی وجہ سے ٹیڈ راستہ بھٹک گیا اور اس نے غلطی سے گاڑی سڑک سے ہٹا کر ایک پگڈنڈی پر ڈال دی جو آگے جا کر دریا میں ختم ہوتی تھی اور سامنے کوئی رکاوٹ بھی موجود نہیں تھی۔ قصہ مختصر، جب تک ٹیڈ کو خبر ہوتی، اس کی گاڑی دریا میں ڈوب چکی تھی۔ اس نے اپنی کولیگ کو آواز دی لیکن وہ شاید بے ہوش ہوچکی تھی، چنانچہ ٹیڈ اپنی گاڑی سے نکلا، تیرتے ہوئے دریا سے باہر آگیا، تھوڑی دیر سانس بحال کی اور ایک مرتبہ پھر دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی ساتھی خاتون کو تلاش کرنے نکل گیا ۔ ۔۔ گاڑی کے قریب پہنچ کر اسے پھر اپنے ساتھ تیرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور واپس تیر کر دریا سے باہر آگیا۔
وہاں سے وہ واپس فارم ہاؤس گیا اور اپنے ساتھیوں کو اس حادثے کے بارے میں اطلاع کی، وہ اس کے ساتھ دریا پر آئے، ٹیڈ نے ایک مرتبہ پھر دریا میں چھلانگ لگائی تاکہ خاتون کو باہر نکال سکے لیکن ایک مرتبہ پھر ناکام رہا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ پولیس کو اس حادثے کی رپورٹ کرے۔ ٹیڈ اپنی بدنامی اور سیاسی طور پر مضمرات کی وجہ سے پریشان تھا، وہ اپنے گھر چلا گیا، ساری رات اپنے وکیل اور احباب سے مشورے کئے اور اگلے دن صبح 10 بجے پولیس سٹیشن جا کر ساری صورتحال بتا دی۔
پولیس نے جائے وقوعہ پہنچ کر گاڑی برامد کرلی اور خاتون کی لاش بھی باہر نکال لی۔ پولیس نے فوری طور پر سٹیٹ کے سینیٹر اور ملک کے مقبول ترین سیاستدان پر اس بات کا مقدمہ درج کردیا کہ وہ جائے حادثہ سے فرار ہوگیا اور پولیس کو رپورٹ کرنے میں 10 گھنٹے کی تاخیر کردی۔ تین دن کے اندر اندر استغاثے نے جج کے روبرو سارا مقدمہ پیش کیا اور جج نے ' جائے حادثہ سے فرار اور پولیس کو رپورٹ نہ کرنے ' جیسے سنگین جرم پر ٹیڈ کینیڈی کو سزا دینے کا فیصلہ کیا لیکن چونکہ وہ اس وقت 37 برس کا تھا، اس کا سابقہ ریکارڈ مکمل کلین تھا اور اس کی شہرت بہت اچھی تھی، اس لئے جج نے اس جرم کی کم سے کم سزا جو کہ دو سال جیل بنتی تھی، سنا دی اور اس کے ساتھ ساتھ بطور سینیٹر اور کلین ریکارڈ کی وجہ سے یہ سزا معطل بھی کردی لیکن اس کے ساتھ ہی اس جج نے ایک جملہ بھی کہہ دیا کہ:
" ٹیڈ کینیڈی کو اپنی غفلت کی سزا مل چکی ہے اور اس سے آگے بھی یہ سزا ملتی رہے گی، وہ سزا جو کہ یہ عدالت بھی نہیں دے سکتی!!! "
اس واقعے کے بعد ٹیڈ کینیڈی نے ٹی وی پر اپنی ریاست کے عوام سے ایک براہ راست خطاب کیا، انہیں تمام واقعہ بتایا، اپنی غلطی کا اقرار کیا اور ان سے رائے طلب کی کہ اگر وہ چاہیں تو وہ استعفی دے کر گھر چلا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ اپنی رائے کا اظہار بزریعہ خط اس کے دفتر اور اخبارات کو ارسال کردیں۔
عوام نے یہ رائے دی کہ چونکہ بطور سینیٹر وہ اس کی پرفارمنس سے خوش تھے اور چونکہ اس حادثے میں اس کی غلطی نہیں تھی، اس لئے وہ بطور سینیٹر اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کے دو سال بعد عوام نے اسے ایک مرتبہ پھر بھاری اکثریت سے سنینیٹر منتخب کرلیا۔
لیکن ۔ ۔ ۔ ۔
عوام نے ٹیڈ کینیڈی کو بطور امریکی صدر مکمل طور پر مسترد کردیا۔ عوام کے خیال میں ملک کے صدر کیلئے جو مطلوبہ ' قوت فیصلہ ' درکار ہوتی ہے، وہ ٹیڈ کینیڈی کے پاس نہیں ورنہ وہ فوری طور پر پولیس کو مطلع کرکے اپنی ساتھی خاتون کی جان بچا سکتا تھا۔
ٹیڈ کینیڈی مسلسل 47 سال تک ریاست میسا چیوسٹس کا سینیٹر منتخب ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ 2009 میں انتقال کرگیا۔ بطور سینیٹر عوام اس سے خوش تھے لیکن اس کی ایک چھوٹی سی غلطی ان کیلئے ناقابل برداشت تھی جس کی وجہ سے اس کا صدر بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔
یہ 1969 کا واقعہ ہے جب امریکی عوام کا شعور شاید اتنا بلند نہیں ہوا کرتا تھا لیکن پھر بھی اتنا ضرور تھا کہ وہ دیکھ سکتے کہ کون ان کیلئے ایک ایک بہتر لیڈر ثابت ہوسکتا ہے اور کون نہیں۔ اسی لئے امریکہ ہمیشہ سے مضبوط رہا اور ایک عالمی طاقت بنا رہا۔
کل نوازشریف کی گاڑی تلے ایک بچہ کچلا گیا اور عوام کا عالم یہ ہے کہ وہ گوجرانوالہ میں اسے بٹیر اور سری پائے کھلانے کیلئے بے تاب نظر آئے۔
قصور نوازشریف کا نہیں بلکہ اس عوام کا ہے جسے آج تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ کون اس ملک کیلئے بہتر ہے اور کون نقصان دہ۔
آپ پاکستان اور امریکہ کا موازنہ کرلیں، نتیجہ آپ کے سامنے ہے!!! بقلم خود باباکوڈا
Comments
Post a Comment