Skip to main content

بارش فرنود عالم


آپ گاڑی میں بیٹھے اگر ائیر پورٹ کی طرف گامزن ہوں۔ آپ چل رہے ہوں اور سورج سیاہ گھٹاوں کا نقاب اوڑھ کرافق کے اس پار کہیں گم ہوجائے۔ مطلع ابر آلود ہو کر فضاؤں میں رومانویت کا رنگ بکھیردے۔ ٹھنڈی ہواؤں کا ہر جھونکا گاڑی کی ایک کھڑکی سے تو داخل ہو اور سرمستیوں کو ہوا دے کر دوسری کھڑکی سے نکل جائے ۔ آپ سرشاری کی کیفیت میں ہوں کہ بارش کی مدھم مدھم بوندیں ونڈ اسکرین پہ ٹپ ٹپ دھنیں بکھیرنا شروع کردیں۔ بے ساختہ آپ کا ہاتھ آگے بڑے اور اپنے کسی پسندیدہ گلوکار کی نغمہ سرائیوں کو برستی بوندوں اور بکھرتی دھنوں سے ہم آہنگ کردیں۔ جذبات میں ایک تلاطم ہو۔ احساس میں ایک ابھار ہو۔ طبعیت میں ایک شورش بپا ہو۔ اس موسم کو آپ کیا کہیں گے۔۔؟؟؟ ’’خوشگوار موسم‘‘
آپ گاڑی سے اترے۔ ائیرپورٹ میں داخل ہوئے۔ بورڈنگ پاس لے کرلاؤنج میں پہنچے ۔ ایک طرف خاموشی سے بیٹھ کر شیشے کے اس پار رن وے کے اطراف میں بھیگے ہوئے ماحول سے شوق کا تسلسل جوڑنے لگے۔وہی شہر ہے وہی فضائیں ہیں۔ وہی ہوائیں اور وہی گھٹائیں ہیں۔ بوندوں کی رفتار بھی وہی اس کی نغمہ سرائی بھی وہی۔ وہی سرشاری اور وہی سرمستی۔ بدستور آپ کے اندر کی دنیا دور دور تک جھل تل ہوئی پڑی ہے۔ مگر اچانک برقی لہروں سے ایک سریلی سی آواز ابھری ’’خواتین وحضرات ! کراچی جانے والی فلائٹ پی کے 303 موسم کی خرابی کی وجہ سے تاخیر کی شکار ہے‘‘
موسم کی خرابی۔۔؟؟؟
اندازہ کیجیئے کہ دو قدم کے فاصلے کے ساتھ صورت حال کس قدر تبدیل ہوئی کہ جو موسم لمحہ بھر پہلے خوشگوار تھا وہ یک قلم ’’خراب‘‘ ہوگیا۔ اس جگہ چھوڑ کر واپس دو قدم پیچھے جائیں تو یہی موسم پھر خوشگوار کہلائے۔ موسم تو وہیں کھڑا ہے، مگر آپ کی جگہ بدل گئی ہے۔ اس شیشے کے اُس پار کیف وسرور کا اب بھی وہی عالم ہے، جو آپ چھوڑ کے آئے ہیں، مگر شیشے کے اِس پار اسی خوشگوارعالم کا نام ’’خرابی’’ رکھ دیاگیا ہے۔ یعنی گرد وپیش کی صورت حال ہی اگر بہتر نہ ہو تو موسموں کی خوشگواریاں بھی درحقیقت سوگواریوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ اس حقیقت کو ہم سے بہتر کون جانے، جن کی طبعیتوں میں روز کوئی خوشگواری ہی ناگواری بن کر اترتی ہے۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم اس قدر غیر متوازن معاشرے میں رہنے پہ مجبور کیئے جا چکے ہیں، جہاں خواشگواری بھی اپنے کوکھ سے پیہم المیوں کو جنم دیتی ہے۔ قہقہاتی آوازوں میں سے بھی قیامت خیزیاں برامد ہوتی ہیں۔ ہم میں سے بیشتر وہ ہیں جو بدلتے موسموں کیے ساتھ شاعری کے دیوان بدلتے ہیں۔ اپنا میوزک کلیکشن ترتیب دیتے ہیں۔ کتابوں سے رومانوی سطریں چراتے ہیں۔ اپنے احساس کو منظم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کیساتھ بِتائے ہوئے دوپل یاد کرتے ہیں یا پھر کسی کے ساتھ دو پل بِتانے کی آرزو کرتے ہیں۔ کتنے ہی خوشگوار مہم جوئیاں کرتے ہیں۔ کسی اوپن ائیر کیفے میں بیٹھ کر کافی کا لطف لیا جائے۔ کہیں ویرانے میں جایا جائے جہاں لفظ گم ہوجائیں اور صرف خاموشیاں محو کلام ہوں۔ لانگ ڈرائیو پہ نکل کر کچھ لمحوں کو یادوں میں قید کیا جائے۔ مگر۔!!
مگر یہ احساس کس کو ہوتا ہےکہ جب بھی اُدھرموسم ہلکی سی ایک انگڑا ئی لیتا ہے اِدھر فاقہ کش غریب سہم کر دیوار سے لگ جاتا ہے۔جونہی بجلی کڑکتی تو مٹی کے گھروندے میں بیٹھی کسی بیمار بچے کی ماں کے دل میں دور تک وحشت ہی وحشت راج کرتی ہے۔ بارش کا ہر قطرہ قیامت کا نامہ بن کر ان کے آنگن میں گرتا ہے۔ بزرگ خواتین بیمار اور بچے، ہر ایک کی شاخِ فکر پہ اندیشوں کے شیش ناگ اپنے پھن پھیلا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کلیکشن اور دیوان نہیں، وہ اپنا سامان سمیٹنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہ ہر بار کا المیہ ہے۔ یہ ہر بار کا ستم ہے۔ جی ہاں! یہ ہر بار کی سچائی ہے کہ بارش کی جن بوندوں سے امیرِ شہر کا دولت کدہ دھل کر نکھر جاتاہے، بارش کی انہی بوندوں میں غریبِ شہر کا گھر خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا ہے۔ اونچے شبستانوں اور پھیلی ہوئی خوابگاہوں میں پلنے والے رومانوی جوڑوں کو کیا خبرکہ جس دوران ہم دھند میں لپٹی ہوئی گاڑی کی سکرین پر انگلی سے Love u لکھ رہے تھے اس دوران کتنے ارمان اور کتنے خواب دیکھتے ہی دیکھتے اسی سیلابِ بلا خیز کی نذر ہوگئے۔
کل یہاں بارش کا متواتر تیسرا دن تھا۔ یہ دورانیہ جیسے جیسے پھیلتا گیا، اپنی پریشانی میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوا۔ یک لخت یہی سوچ حاشیہِ خیال پہ کروٹیں لینے لگی، جو بیان کی۔ اسی میں شہر سے پرے ایک دوست کا میسج آیا ’’نواحی علاقے میں دو کمسن بھائی بند باندھتے ہوئے نالے میں بہہ گئے’’۔ یہ سن کر دل بیٹھ ہی سکتا ہے۔ ایسے میں خدا کے سوا کون ہوتا ہے جس سے لڑا جائے اور شکوہ کیا جائے
خدایا۔۔۔!!!!
تو جانتا بھی ہے کہ ان بارش میں ایک غریب کے ارمانوں کا خون ہوتاہے۔
تجھے خبر بھی ہے کہ قیامت کسی غریب کے گھروندے پہ ٹوٹتی ہے۔
تجھے علم ہے کہ خانوادہ کسی یتیم و یسیر کا ٹوٹ کر بکھرتا ہے۔
تجھے یہ بھی علم کہ ان برستی بوندوں میں صرف امیروں کے محل چمکتے ہیں۔ انہی کے گھروں سے پکوانوں کی خوشبوئیں اٹھتی ہیں۔
انہی کی گاڑیاں نکھرتی ہیں۔
اے رازق ومالک۔۔۔!!
کیا تونہیں سوچتا کہ آج رات اس شخص کا کیا بنے گا،جو کھلے آسمان تلے رات بسر کرتا ہے۔۔؟؟
کیا تجھے احساس نہیں کہ سردی سے ٹھٹرتے لاغر وجود اس موسم میں کہاں جائیں گے۔۔؟؟
تجھے رحم نہیں آتا جب غریب کی کائنات لٹتی ہے؟
تجھے ترس نہیں آتا جب معصوم بچے تیری زمین پہ خوار ہوتے ہیں۔ ؟
تیری رحیمی کہاں چلی جاتی ہے جب تیری برستی ’’رحمت‘‘ میں مائیں بے آبرو ہوئی جاتی ہیں؟
تیرے پارسا بندے کہتے ہیں یہ بارشیں عذاب ہیں،
مگر خدایا یہ کیسا عذاب ہے، کہ جس میں صرف غریب کی بستیاں اجڑتی ہیں۔؟
یہ عذاب کی کون سی قسم ہے کہ جس میں کچے مکان کی دیوار گرتی ہے اور پکے مکانوں کے عیاش مکینوں کا رستہ مختصر ہوجاتا ہے۔؟؟
جن کے سبب آسمانوں سے بجلیاں گرنی چاہیئں، وہ تو ان موسموں میں اور بھی چوڑے ہوکر تیری زمین پہ دندناتے پھرتے ہیں۔۔
خدا سے لڑیئے تو جواب بھی ملتا ہے۔۔!!!
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر۔کرتےہیں خطاب آخر،اٹھتے ہیں حجاب آخر!!
سوچیئے تو یہ بارش ہم جیسوں کیلئے ہی عذاب ہوتی ہے۔۔!!
عذاب صرف وہ نہیں کہ جس میں مکان بہہ جائیں۔ اطمینان اور سکون جس میں بہہ جائے، وہ عذاب کی بدترین قسم ہوسکتی ہے۔
غور سے دیکھیئے کہ یہ نظام درہم برہم کن کے ہاتھوں ہوا ہے۔ کیا یہ ہمارا کیا دھرانہیں ہے، جس کے نتائج غریب الدیار لوگوں کو بھگتنا پڑرہے ہیں۔ پھر وہی انجام کسی بھانک تصویر کی صورت میں ہمارے لیئے عذاب بنتا ہے۔ سوچیئے ذرا کہ
آپ کیفے میں بیٹھ کر کافی کی چسکاریاں بھریں اور اسی لمحے شیشے کے اس پار سے کوئی مسکین حسرت بھری نگاہوں سے آپ کو دیکھے، تو کیا آپ کے حلق سے یہ گھونٹ کسی زہر کی طرح نہیں اتریں گے؟
چھینٹے اڑاتے ہوئے جب آپ لانگ ڈرائیو پہ نکلتے ہیں، تو کسی بے سایہ درخت کے نیچے ٹھٹرتی ہوئی مائی کا لرزتا وجود آپ کے زندگی کا چین نہیں اجاڑ دیتا؟
جب ٹی وی اسکرین پہ کسی ماں کو سر پہ خستہ سی چارپائی اور بغل میں سہمے ہوئے بچے کو تھامے کسی جائے پناہ کی تلاش میں دیکھتے ہیں، تو کیا عیش کا سارا خمار ہوا نہیں ہوجاتا۔
ایسے میں ہم صرف کڑھتے ہیں۔ اندر سے پگھلتے ہیں۔خون جلاتے ہیں۔ہول اٹھتے ہیں ۔پیج وتاب کھاتے ہیں۔ دھڑکنوں کو سنبھالتے ہیں۔ بے بسی کا خاموش ماتم کرتے ہیں۔ بے کسی کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ بے حسی کا جنازہ اٹھاتے ہیں۔ سوالوں سے نظریں چراتے ہیں۔ حقیقت سے منہ پھیرتے ہیں۔
یہ سب کیا ہے۔۔؟؟؟ یہ عذاب ہی تو ہے۔۔!!
یہ عذاب ہی تو ہے جو میرے اور آپ کے نصیب میں رہ گیا۔ یہ عمر قید کی سزا ہے، جو ہم نے گن گن کر کاٹنی ہے۔ اس وقت تک، کہ جب تک ہم اپنے ضمیر کی آواز پہ کان نہ دھرلیں۔
اس وقت تک، کہ جب تک ہم تسلیم نہ کرلیں کہ تباہی کا یہ سامان ہم نے اپنے ہاتھوں سے کیا ہے۔
اس وقت تک،کہ جب تک سرمایہ داروں جاگیر داروں وڈیروں بیالیس برادریوں اور چار خاندانوں کی غلامی سے ہم باہر نہ نکل آئیں۔ !!!
اس وقت تک، کہ جب تک اس نظام کو فرسودہ مان کر ہم عصبیت کے ہر بت کو اپنے ہی ہاتھوں سے پاش پاش نہ کردیں۔۔!!
ورنہ ہم سدا جلتے رہیں گے اس عذاب میں۔۔!!
ذمہ دار مگر کون۔۔؟؟
میں بھی ہوں اور تم بھی ہو۔۔!!
فرنود عالم 

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت  کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گر...

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...