اصفہان میں ایک بہت دولت مند شخص رھتا تھا جسے اللہ نے دنیاوی مال و دولت سے ایسا نوازا تھا جس کی کوئی حد نہیں تھی، مگر وہ ھمیشہ غمگین و پریشان رھتا تھا۔ تردّد ھمیشہ اُس کے چہرے سے ٹپکتا تھا۔ اُس کے گھر میں ایک ملازم تھا جو غریب ھونے کے باوجود ھمیشہ خوش رھتا تھا اور اُس کے چہرے پر کبھی کسی نے ملال کا شائبہ تک نہیں دیکھا تھا۔
ایک دن اپنے مالک کو بہت زیادہ غم میں غلطاں پایا تو اُس کے پاس گیا اور کہنے لگا؛
ۤ"جناب کیا یہ حقیقت نہیں ھے اللہ تعالیٰ ھم سب کے دنیا میں آنے سے پہلے موجود تھا؟"
مالک نے جواب دیا؛ "بلا شک و شبہ۔"
"اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں ھے کہ جب ھم سب فنا ھو جائیں گے تو وہ پاک ذات پھر بھی موجود رھے گی؟"
"بالکل"
"پھر آپ کیوں پریشان رھتے ھیں؟ وہ آپ سے پہلے بھی دنیا کو بہ حُسن و خوبی چلا رھا تھا اور آپ کے بعد بھی چلاتا رھے گا۔ تو آپ کی زندگی میں بھی چلاتا رھے گا۔ آپ کیوں اپنے آپ کو فکر میں ھلکان کئے دیتے ھیں؟ ھم صرف کوشش کر سکتے ھیں اور نتیجہ ھمیں اللہ پر چھوڑ دینا چاھیئے۔ آپ اللہ پر توکّل کر کے دیکھ لیں کہ زندگی کتنی آسان ھو جاتی ھے۔ اللہ کے احکامات کو خاموشی سے سنیں اور جتنا ھو سکے اُس پر عمل کریں۔ اِس دنیا میں بھی فکر و وسوسہ آپ کے نزدیک نہیں پھٹکے گا اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ یہ ساری دنیا فانی ھے اور فانی شے پر فکر کرنا اور پریشان ھونا انسان کو زیب ھی نہیں دیتا۔ فکر ھی کرنی ھے تو اُس پروردگار کی کریں ھمیشہ رھنے والا ھے اور جس کو کسی قسم کا زوال نہیں ھے۔"
ملازم نے جب سر اُٹھا کر اپنے مالک کی آنکھوں میں جھانکا تو اُس میں تشکـر کے آنسو جھلملا رھے تھے اور اُس کا چہرہ اطمینان سے دمک رھا تھا۔
حکایاتِ حکیمانہ سے اقتباس
Comments
Post a Comment