Skip to main content

ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ؟

ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ؟
ﺍﯾﮏ ﻣﺘﻨﺎﺳﺐ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺎﻣﺖ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ
ﺳﮯ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﮐﻮﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ. ﺗﻢ ﻧﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ? ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﮑﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺾ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭﺷﺎﯾﺪ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﭘﮩﻨﻨﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ.
ﮐﭽﮫ ﺣﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺍﻧﭩﺎ.
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﺎﮐﭽﮫ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺴﺖ ﭘﺎﺟﺎﻣﮧ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﺎﮨﮯ ﺟﻮﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﮐﺮ ﺧﺘﻢ
ﮨﻮﺟﺎﺗﺎﮨﮯ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎﺗﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮔﺮﮦ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﻨﮉﻟﯿﺎﮞ ﻋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭﺧﺎﺗﻮﻥ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ
ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﮬﮏ ﺳﮯ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ. ﺑﯿﮕﻢ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ
ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻨ ﺎﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ ؟
ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮔﮭﻮﺭﺍ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺩﮬﺮ
ﺍﺩﮬﺮ ﺗﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﻮ ؟
ﺑﯿﮕﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮﺳﮯ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﭼﭩﺨﺎ ﺭﮨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﮐﺜﺮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﺧﺮ
ﮐﯿﻮﮞ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ؟؟
ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮﮐﮩﺎ.
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ,ﻗﯿﺎﺱ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ
ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﺯﻧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﻣﭩﮑﺘﺎﮨﻮﺍ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ
ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ۔
ﮨﺎ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﺭﮐﮫ ﮐﺮﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﯾﺎﺯﻧﺎﻧﯽ؟
"ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔
ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﺕ ﭘﺮﯾﺖ۔۔۔۔ﻣﺴﺘﻨﺼﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺎﺭﮌ

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت  کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گر...

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...