تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،
محبت بهی ضروری تهی، بچهڑنا بهی ضروری تھا،
ضروری تھا کہ ہم دونوں طوافِ آرزو کرتے،
مگر پھر آرزوؤں کا بکهرنا بهی ضروری تھا،
بتاؤ یاد ہے تم کو، وہ جب دل کو چرایا تھا،
چرائی چیز کو تم نے خدا کا گهر بنایا تھا،
وہ جب کہتے تھے میرا نام تم تسبیح میں پڑهتے ہو،
محبت کی نمازوں کو قضا کرنے سے ڈرتے ہو،
مگر اب یاد آتا ہے وہ باتیں تهی محض باتیں،
کہی باتوں ہی باتوں میں مکرنا بهی ضروری تھا،
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،
وہی ہیں صورتیں اپنی وہی میں ہوں وہی تم ہو،
مگر کهویا ہوا ہوں میں مگر تم بهی کہیں گم ہو،
محبت میں دغا کی تھی سو کافر تهے سو کافر ہیں،
ملی ہیں منزلیں پهر بهی مسافر تهے مسافر ہیں،
تیرے دل کے نکالے ہم کہاں بهٹکے، کہاں پہنچے،
مگر بهٹکے تو یاد آیا بهٹکنا بهی ضروری تھا،
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،
Comments
Post a Comment