چھین لیں دل وہ مرا ، فکر اُدھر ہے تو یہی
اُن کا منشاۓ نظر کوئی اگر ہے ، تو یہی
اُن کا منشاۓ نظر کوئی اگر ہے ، تو یہی
وہ ضرور آیئں گے ، گزریں گے اِدھر سے اک دن
مجھ کو اُمید سرِ راہگزر ہے ، تو یہی
مجھ کو اُمید سرِ راہگزر ہے ، تو یہی
اُن کا دیدار کہیں ہو ، وہ کہیں مِل جائیں
رات دن کوئی تقاضاۓ نظر ہے ، تو یہی
رات دن کوئی تقاضاۓ نظر ہے ، تو یہی
اُن سے اظہارِ تمنا تو نہیں ہے مشکل
وہ کہیں روٹھ نہ جائیں مجھے ڈر ہے ، تو یہی
وہ کہیں روٹھ نہ جائیں مجھے ڈر ہے ، تو یہی
تیر نسبت ، ترا ارماں ، تری حسرت ، تری یاد
اب مرے پاس کوئی زادِ سفر ہے ، تو یہی
اب مرے پاس کوئی زادِ سفر ہے ، تو یہی
مَیں ترے در سے کہیں اور نہیں جا سکتا
سَر ٹِکانے کے لۓ بس کوئی در ہے ، تو یہی
سَر ٹِکانے کے لۓ بس کوئی در ہے ، تو یہی
میرے افکار کا محور ہے نصیرؔ اُن کا جمال
مرکزِ دائرہ فکر و نظر ہے ، تو یہی
کلام حضرت الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ گولڑہ شریف
مرکزِ دائرہ فکر و نظر ہے ، تو یہی
کلام حضرت الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ گولڑہ شریف
Comments
Post a Comment