کیلٹی ادب سے چوتھی صدی عیسوی یعنی آج سے دو ہزار سال قبل کی ایک آفاقی نظم ۔ اس نظم کی گونج دنیا کی مختلف زبانوں، بشمول اردو، کی شاعری میں آج بھی سنی جا سکتی ہے۔
" اوسین کی پشیمانی ضعیفی میں"
آج کی رات مجھ پہ غم کے لمبے سائے ہیں
میرے لیے گذشتہ رات بھی کافی طویل تھی
یہ دن کٹھن اور دشوار گزار راستے پر سر گرمِ سفر ہے
تھکا دینے والے دیروز کے بطن سے ابھرا ہے
آنے والا ہر دن میرے لیے طویل ہوتا ہے
حالانکہ پہلے اس طرح کی بات نہ تھی
اب تو سچی خوشی بھی مجھ سے روٹھ کر کوسوں دور چلی گئی ہے
نہ رزم گاہ ہے نہ جنگ کی تیغ زنی
نہ سریلے گیت ہیں، نہ دل کو گرمانے والی موسیقی اور نہ ہی عورتوں کا حسن و جمال
نہ دہکتی ہوئی انگھٹی ہے اور نہ کھانوں کا انبوہ
اور نہ ہی فراخ دل مالک کا اہتمامِ ضیافت
نہ غزالوں کا تعاقب، نہ راز و نیاز کی باتیں
اب تو عزیز سے عزیز تر بھی مجھ سے تجارت کی زبان میں بات کرتا ہے
افسوس! میں یہ دن دیکھنے کو زندہ رہا
ہر دن جو گوشہ ء مکان میں خوشیوں سے خالی گزرتا ہے
شکاریوں کو چونکا دینے والی صدا کے بغیر
نہ ہی شکاری کتوں کے بھونکنے کی صدا آتی ہے
لطیف مذاق سے عاری اور خوش طبعی کی ترنگوں سے محروم
آج کی رات مجھ پہ غم کے سائے لمبے ہیں
اتنے بڑے جہان میں کوئی انسان اتنا غم زدہ اور افسردہ نہ ہو گا
جتنا کہ میں آج کی رات ہوں
ایک بےچارہ بوڑھا انسان جس کی ہڈیوں کی رطوبت خشک ہو چکی ہے
جو کسی لائق نہیں سوائے منتشر سنگریزوں کو جمع کرنے کے
میں ایک معزز قبیلہ ء فن کی آخری یادگار ہوں
فن کا بیٹا اوسین
بنجر اور بھورے آسمان کے نیچے ایستادہ
گوش بر نوائے جرس
آج کی رات مجھ پہ غم کے سائے لمبے ہیں۔
میرے لیے گذشتہ رات بھی کافی طویل تھی
یہ دن کٹھن اور دشوار گزار راستے پر سر گرمِ سفر ہے
تھکا دینے والے دیروز کے بطن سے ابھرا ہے
آنے والا ہر دن میرے لیے طویل ہوتا ہے
حالانکہ پہلے اس طرح کی بات نہ تھی
اب تو سچی خوشی بھی مجھ سے روٹھ کر کوسوں دور چلی گئی ہے
نہ رزم گاہ ہے نہ جنگ کی تیغ زنی
نہ سریلے گیت ہیں، نہ دل کو گرمانے والی موسیقی اور نہ ہی عورتوں کا حسن و جمال
نہ دہکتی ہوئی انگھٹی ہے اور نہ کھانوں کا انبوہ
اور نہ ہی فراخ دل مالک کا اہتمامِ ضیافت
نہ غزالوں کا تعاقب، نہ راز و نیاز کی باتیں
اب تو عزیز سے عزیز تر بھی مجھ سے تجارت کی زبان میں بات کرتا ہے
افسوس! میں یہ دن دیکھنے کو زندہ رہا
ہر دن جو گوشہ ء مکان میں خوشیوں سے خالی گزرتا ہے
شکاریوں کو چونکا دینے والی صدا کے بغیر
نہ ہی شکاری کتوں کے بھونکنے کی صدا آتی ہے
لطیف مذاق سے عاری اور خوش طبعی کی ترنگوں سے محروم
آج کی رات مجھ پہ غم کے سائے لمبے ہیں
اتنے بڑے جہان میں کوئی انسان اتنا غم زدہ اور افسردہ نہ ہو گا
جتنا کہ میں آج کی رات ہوں
ایک بےچارہ بوڑھا انسان جس کی ہڈیوں کی رطوبت خشک ہو چکی ہے
جو کسی لائق نہیں سوائے منتشر سنگریزوں کو جمع کرنے کے
میں ایک معزز قبیلہ ء فن کی آخری یادگار ہوں
فن کا بیٹا اوسین
بنجر اور بھورے آسمان کے نیچے ایستادہ
گوش بر نوائے جرس
آج کی رات مجھ پہ غم کے سائے لمبے ہیں۔
(بحوالہ تاریخ ادبیات عالم از پروفیسر عبدالوہاب اشرفی)
Comments
Post a Comment