Skip to main content

گستاخی دلکش تحریر

گستاخی
ایک محترم کا اعتراض آیا ،آپ نے پہلو میں کیوں رکھا ہوا ہے خدا کو ، دل میں کیوں نہیں رکھتی،، یہ گستاخی ہوئی جناب ...
ہیں ؟؟ گستاخی ؟؟
میں نے اپ سے پوچھا ، دل کہاں ہوتا ہے ،میرے خیال کے مطابق تو پہلو میں ، کہیں آپ کے خیال محترم کے مطابق ، دل، پاؤں میں تو نہیں ہوتا ؟؟ ..
اب کہو گے توبہ توبہ ، الله کا نام لے رہی ہو ، ساتھ میں پاؤں کا ذکر کاہے کو کرتی ہو بی بی ؟؟ بے ادب ..
اچھا میں بے ادب ہوں .. ٹھیک ہے ..
تم محترم یہ بتاؤ ، وہ حدیث سن رکھی ہے جس میں کہا جاتا ہے ،
تم "اس" کے کاموں میں مشغول ہو جاؤ تو وہ تمہارے ہاتھ بن جاتا ہے ، جس سے تم کام کرتے ہو ، ، وہ تمہاری آنکھ ، کان بن جاتا ہے، جس سے تم دیکھتے ، سنتے ہو .. وہ تمہارے پاؤں بن جاتا ہے، جب تم چلتے ہو "
اب بتاؤ، یہ سب کیا تھا ؟؟
اگر میں نے تمہیں یہ بتا دیا کے میں دعا کیسے مانگتی ہوں تو تم نے مجھے حد ادب کہہ کہ جوتا اٹھا لینا ہے ، دیکھو ، میں اسکی چادر کا کونہ پکڑ لیتی ہوں ، اور تب تک نہیں چھوڑتی جب تک، دل مطمئن نہ ہوجاے، (دعا قبول ہو یا نہ ہو)
اب تمآرا اگلا اعتراض، چادر ؟؟ الله چادر کا محتاج نہیں ....
سنو یہ نہیں سنا کبھی " کبیرائی اس ذات کی چادر ہے ، اور جو انسان وہ کھینچے گا ، وہ فلاں فلاں ہوگا "
بھئی میں کھینچتی نہیں ہوں، صرف تھام کے رکھتی ہوں ، کیوں کہ مجھے اسکی تمام صفات میں ، غرور کی صفت بہت پسند ہے ، میں نے اسے پہچانا ہی اس صفت سے ، وہی ،صرف وہی ، مجھے تکبر کرنے کے قابل لگتا ہے .. مجھے لگتا ہے، تکبر اس پہ واجب ہے ..
اوہ .. واجب ؟؟ ابّ تم نے بیلٹ اٹھا لینا ہے ، کہ واجب تو صرف انسان پہ ہوتا ہے ، خدا پہ نہیں ..
بھائی بیلٹ رکھو ، وہ نہیں سنی بات ، الله نے خود پہ اپنی رحمت "واجب" کررکھی ہے ؟؟
وہ کہتا ہے، مجھے ھر جگہ ساتھ ساتھ رکھو ، میں دسترخوان پہ اسے ساتھ بیٹھا لیتی ہوں ، بازار من چلتے وقت اسکی انگلی پکڑ لیتی ہوں .. کیا بے ادبی کرتی ہو ں ؟؟
آ جی . آپ کے محترم ذھن ، میں الله کی ذات، کوئی جاگیردار، یا کسی مزار کا کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے، جس کی "یاد" کا ہاتھ تھامنا ، پاس دسترخوان یا پہلو میں بیٹھنا ، گستاخی ہوجاے گی ؟؟
اگر ایسا ہے ، تو اکرم بخاری نے خوب ہی کہا تھا ، جس کی سمت ، جس کا قبلہ ہی غلط ہو، اسے کیا کہا جائے .. خدا کو سمجھننے کے لئے ٹھیک سمت کا اندازہ کیسے ہوگا ، اس کے لئے نعمان بخاری کے تصوف کے لیکچرز موجود ہیں .. ویسے یہ جو فیس بکی "بخارات" ہے نا ، بڑی پتہ کی بات کرتے ہیں ..
ان دونوں بخارات نے میری اور آپکی مشکل تحلیل کر دی . جس نے اپنی سمت پہ نظرثانی نہ کیا اور وہ لیکچرز نہ پڑھے، وہ "آگہیء ذات خدا" کے قیمتی سامان سے محروم رہا ..
مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی ..
مجھ میں کھویا رہا،،، خدا میرا ..................!!

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت  کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گر...

تم بتاؤ تم نے ملک کیلیے کیا کیا ۔ بابا کوڈا

" یہ مت پوچھو کہ ملک نے تم کو کیا دیا، یہ بتاؤ کہ تم ملک کیلئے کیا کرسکتے ہو؟ " آپ نے اکثر یہ ڈائیلاگ مختلف کالموں میں پڑھا ہوگا یا ٹی وی پر سنا ہوگا۔ یہ تاریخی جملہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 20 جنوری 1961 کو صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں امریکی عوام سے کہا تھا۔ صدر بننے کے تقریباً 2 سال بعد کینیڈی کو ٹیکساس کی ریاست میں کسی شخص نے قتل کردیا جس میں سوویت یونین کے ملوث ہونے کا شک کیا گیا کیونکہ کینیڈی نے اپنے دو سال کے عرصے میں سردجنگ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ کینیڈی کا ایک چھوٹا بھائی ٹیڈ کینیڈی بھی تھا جو کہ 30 سال کی عمر میں 1962 میں میساچیوسٹس نامی سٹیٹ کا سینیٹر منتخب ہوا۔ صدر کینیڈی کے قتل کے بعد ٹیڈ کینیڈی ایک مرتبہ پھر بھاری ووٹوں سے سینیٹر منتخب ہوگیا اور مرحوم صدر کی مقبولیت کی وجہ سے ٹیڈ کینیڈی بھی اپنی ریاست کے ساتھ ساتھ پورے امریکہ میں مقبول ہوتا گیا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ 1972 کے الیکشن میں ڈیموکریٹس کا متفقہ صدارتی امیدوار بن کر بغیر کسی مشکل کے امریکہ کا صدر منتخب ہوجائے گا۔ 18 جولائی 1969 کو ٹیڈ کینیڈی نے شہر سے دور ایک جزیرے پر اپنے چند ...