زاھدہ حنا جون ایلیاء کی دو دھائیوں تک رفیقِ حیات رھیں۔ وقت کا سِتم کہ پھر اُن میں علیحدگی ھو گئی۔ جون پر اِس سانحے کا جو اثر ھُوا سو ھُوا وہ ھم ان کی شاعری میں محسوس کر سکتے ھیں۔
لیکن زاھدہ حنا کی یہ غزل اُن کے دُکھ کو بھی کُھل کے بیاں کرتی نظر آتی ھے۔ جو شاید آپ دوستوں کے لیے نئی ھو۔ آپ کی بصارتوں کی نذر.
تصویر میں دونوں اپنی اولاد کے ساتھ خوش و خرم بیٹھے ھیں۔
جانتی ھوں کہ وہ خفا بھی نہیں
دل کسی طور مانتا بھی نہیں
دل کسی طور مانتا بھی نہیں
کیا وفا و جفا کی بات کریں
درمیان اب تو کچھ رھا بھی نہیں
درمیان اب تو کچھ رھا بھی نہیں
درد وہ بھی سہا ھے تیرے لیے
میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں
میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں
ھر تمنا سراب بنتی رھی
ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں
ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں
ھاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی
اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں
اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں
دل کو اب تک یقین آ نہ سکا
یوں نہیں ھے ، کہ وہ ملا بھی نہیں
یوں نہیں ھے ، کہ وہ ملا بھی نہیں
وقت اتنا گزر چکا ھے حنؔا
جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں
جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں
”زاھدہ حنا“

Comments
Post a Comment