Skip to main content

ماں میں جلد شادی کرنا چاہتا ہوں اردو تحریر


ماں میں جلد شادی کرنا چاہتا ہوں گناہ سے بچنا چاہتا اپنا آدھا ایمان مکمل کرنا چاہتا ہوں تم کیوں نہیں میری جلد شادی نہیں کرتی ؟
میں ایک عام انسان ہوں 26 سال میری عمر ہے اور میرا گھرانہ مذہبی ہے جہاں نماز روزہ دین کو بہت اہمیت دی جاتی ہے مگر یہ اہمیت صرف نماز روزہ تک ہی ہے جو حکم اسکے علاوہ ہے وہ ہمارے خاندان میں پورتے نہیں ہوتے۔
میں نے سکول کالج یونیورسٹی سے لے کر ہر ادارے میں اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی اللہ کی طاقت سے سے کوشش کی میرے دوست گرل فرینڈز بناتے تھے برے کام کرتے تھے ڈیٹیں مارتے تھے مگر میں نے ہمیشہ سوچا میں یہ سب کام حلال طریقے سے کروں گا جب میری عمر 24 سال ہوئی تو مجھے شدید شادی کی طلب ہونے لگی مجھے اپنے آپ کو برائی سے بچانا شدید مشکل ہوگیا میں نے اپنے گھر والوں کو کہنا شروع کیا اب وقت آگیا ہے میری شادی کر دیں میں نے پڑھائی مکمل کر لی ہے جاب بھی کرتا ہوں ایک میڈیا چینل میں مگر میرے گھر والوں نے شدید اعتراضات اٹھانے شروع کئے ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے میں نے انکو قرآن احادیث سے ریفرنس دئے مگر انہوں نے اسکو یہ کہ کر پرے کر دیا باقی اسلام کی باتیں بھی مانوں اور ایک دن میری ماں نے بتایا میں نے قرآن کا ترجمعہ پورا پڑھ لیا میں نے کہا ایسا پڑھنے کا فائدہ کیا جس پر عمل نہیں کرنا۔ قرآن میں لکھا ہے بالغ ہوتے شادی کرو حدیث میں آتا ہے اگر بالغ ہونے کے بعد ماں باپ شادی نا کریں اولاد گناہ کریں تو سارا گناہ ماں باپ کو ہوگا اولاد کو نہیں۔
انٹرنیٹ ٹی وی پر فحاشی کا بازار عام ہے دوستوں کے ساتھ دیکھتا ہوں وہ لڑکیوں میں انجوائے کر رہے ہیں بازاروں میں لڑکیوں پر نظر پڑ جائے باریک کپڑے جسم ٹائٹ کیسے بچاؤں اپنے آپ کو ۔ میں چڑ چڑا ہوتا جا رہا ہوں گھر والے کہتے بتمیز ہو گیا ہے مگر انکو سمجھ نہیں آتی یہ بتمیزی کیوں ہوتی ۔ میرے والد 35 ہزار کماتے ہیں 3 بہن بھائیوں سمیت پورا گھر چلاتے ہیں تو کیا میں 25 ہزار میں اپنی بیوی کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا ؟
مگر میری کوئی سنتا نہیں کہتے ہیں ابھی عمر ہی کیا ہے 26 سال صرف اور شادی کا نام 32 سال کی عمر سے پہلے نا لینا۔ میں کیسے سمجھاؤں نوجوانوں کو ترقی کرنے کے لئے سکون کا ماحول چاہئے اور اللہ نے قرآن میں کہاں ہے میاں بیوی ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو کہاں گئے میرے اللہ کے احکامات اور میرے نبی ﷺ کی تعلیمات کیا یہ صرف نعرے مارنے کے لئے ہے کہ ہم عاشق رسول ہیں مگر عمل کی دفعہ زیرو۔۔۔
بہت مشکل سے جا کر 1 سال لڑ کر ماں باپ کو منایا رشتہ کرو کچھ حامی بھری انہوں نے بھی ذلیل کر کر کے مگر اسی دوران میرے دادا ابو کا انتقال ہوگیا اور انکے انتقال کے 25 دن بعد میں نے کہا میرا رشتہ کرو کہتے تمکو احساس ہے ابی فوتگی ہوئی میں نے کہا اسلام کہتا ہے 3 دن سے زیادہ کا سوگ نہیں ہوتا کہنے لگے جب ہم مریں گے اسکا مطلب تم بھنگڑے ڈالو گے۔ سمجھ آیا مجھے یہ سب باتیں صرف شادی نا کا کرنے کا بہانہ ہیں کہیں ہمارا بیٹا بہو کے پیار میں پاگل ہو کر ہاتھ سے نا نکل جائے اور کوئی وجہ نہیں
سوچتا ہوں کہ اب اگر میں برائی کی طرف مائل ہو گیا تو کون زمہ دار ہوگا میرے ماں باپ یا پھر یہ معاشرہ میڈیا سیاستدان جنہوں نے زنا آسان کر دیا ہے مگر شادیاں مشکل کر دی ہیں کیسے اللہ کی برکت نازل ہوگی اس ملک پر۔
کاش ماں باپ سمجھ جائین یہ دجالی فتنے کا دور ہے ایمان بچانا بہت مشکل اسی لئے کہتا ہوں نکاح عام کرو زنا مشکل کرو۔

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت  کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گر...

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...