Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2017

ہم شکل - لالہ عارف خٹک

ہم شکل ہونا کوئی معیوب بات نہیں ،مگر کبھی کبھار بہت معیوب بات بن ہی جاتی ہے۔ کراچی میں ایک نوجوان عالمگیر خان جس نے پیپلز پارٹی کی نیندیں حرام کردی تھیں اور شہر میں ہر کھلے گٹر پر سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی تصویر پینٹ کرکے پھر اُس پر Fix it# کا ہیش ٹیگ لگا کر بھاگ جاتا تھا ،میڈیا میں کافی مشہور ہوا۔ حکومت وقت نے اس کے خلاف ایکشن لیا۔اور پولیس خاصی جانفشانی سے اس کو تلاش کرنے لگی۔بد قسمتی سے اس کی اور میری شکلیں کافی ملتی جلتی ہیں۔ ہفتے کے دن بچوں سمیت بیگم کے ساتھ زاہد نہاری کھانے طارق روڈ جانا ہوا۔ یونیورسٹی روڈ سے جیسے ہی کشمیر روڈ پر مڑا۔پولیس کی تین گاڑیاں سائرن بجاتی ہوئی آگے نکل گئیں اور ایک دم سے بریک لگاکر میری کار کو چاروں طرف نرغے میں لے لیا۔ ہم سب حیران و پریشان کہ ہم نے کون سا جرم کرلیا ہے۔ اچانک میرے ذہن میں آیا،کہ شاید کابل سے کسی نے میرے خلاف مخبری کی ہوگی، کہ یہ بندہ مشکوک ہے۔ ایک ڈی ایس پی رینک کا بندہ گاڑی کے پاس آیا۔اور بولا کہ نیچے اتریں۔میں جیسے ہی نیچے اترا۔دو سپاہیوں نے مجھے جکڑ لیا۔ میں نے جرم کا پوچھا۔تو بتایا کہ وزیراعلیٰ اور حکومت وقت کی توہین کرتے...

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...

تم بتاؤ تم نے ملک کیلیے کیا کیا ۔ بابا کوڈا

" یہ مت پوچھو کہ ملک نے تم کو کیا دیا، یہ بتاؤ کہ تم ملک کیلئے کیا کرسکتے ہو؟ " آپ نے اکثر یہ ڈائیلاگ مختلف کالموں میں پڑھا ہوگا یا ٹی وی پر سنا ہوگا۔ یہ تاریخی جملہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 20 جنوری 1961 کو صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں امریکی عوام سے کہا تھا۔ صدر بننے کے تقریباً 2 سال بعد کینیڈی کو ٹیکساس کی ریاست میں کسی شخص نے قتل کردیا جس میں سوویت یونین کے ملوث ہونے کا شک کیا گیا کیونکہ کینیڈی نے اپنے دو سال کے عرصے میں سردجنگ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ کینیڈی کا ایک چھوٹا بھائی ٹیڈ کینیڈی بھی تھا جو کہ 30 سال کی عمر میں 1962 میں میساچیوسٹس نامی سٹیٹ کا سینیٹر منتخب ہوا۔ صدر کینیڈی کے قتل کے بعد ٹیڈ کینیڈی ایک مرتبہ پھر بھاری ووٹوں سے سینیٹر منتخب ہوگیا اور مرحوم صدر کی مقبولیت کی وجہ سے ٹیڈ کینیڈی بھی اپنی ریاست کے ساتھ ساتھ پورے امریکہ میں مقبول ہوتا گیا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ 1972 کے الیکشن میں ڈیموکریٹس کا متفقہ صدارتی امیدوار بن کر بغیر کسی مشکل کے امریکہ کا صدر منتخب ہوجائے گا۔ 18 جولائی 1969 کو ٹیڈ کینیڈی نے شہر سے دور ایک جزیرے پر اپنے چند ...