ہم شکل ہونا کوئی معیوب بات نہیں ،مگر کبھی کبھار بہت معیوب بات بن ہی جاتی ہے۔ کراچی میں ایک نوجوان عالمگیر خان جس نے پیپلز پارٹی کی نیندیں حرام کردی تھیں اور شہر میں ہر کھلے گٹر پر سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی تصویر پینٹ کرکے پھر اُس پر Fix it# کا ہیش ٹیگ لگا کر بھاگ جاتا تھا ،میڈیا میں کافی مشہور ہوا۔ حکومت وقت نے اس کے خلاف ایکشن لیا۔اور پولیس خاصی جانفشانی سے اس کو تلاش کرنے لگی۔بد قسمتی سے اس کی اور میری شکلیں کافی ملتی جلتی ہیں۔ ہفتے کے دن بچوں سمیت بیگم کے ساتھ زاہد نہاری کھانے طارق روڈ جانا ہوا۔ یونیورسٹی روڈ سے جیسے ہی کشمیر روڈ پر مڑا۔پولیس کی تین گاڑیاں سائرن بجاتی ہوئی آگے نکل گئیں اور ایک دم سے بریک لگاکر میری کار کو چاروں طرف نرغے میں لے لیا۔ ہم سب حیران و پریشان کہ ہم نے کون سا جرم کرلیا ہے۔ اچانک میرے ذہن میں آیا،کہ شاید کابل سے کسی نے میرے خلاف مخبری کی ہوگی، کہ یہ بندہ مشکوک ہے۔ ایک ڈی ایس پی رینک کا بندہ گاڑی کے پاس آیا۔اور بولا کہ نیچے اتریں۔میں جیسے ہی نیچے اترا۔دو سپاہیوں نے مجھے جکڑ لیا۔ میں نے جرم کا پوچھا۔تو بتایا کہ وزیراعلیٰ اور حکومت وقت کی توہین کرتے...