Skip to main content

ہم شکل - لالہ عارف خٹک

Image result for alamgir khan
ہم شکل ہونا کوئی معیوب بات نہیں ،مگر کبھی کبھار بہت معیوب بات بن ہی جاتی ہے۔ کراچی میں ایک نوجوان عالمگیر خان جس نے پیپلز پارٹی کی نیندیں حرام کردی تھیں اور شہر میں ہر کھلے گٹر پر سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی تصویر پینٹ کرکے پھر اُس پر Fix it# کا ہیش ٹیگ لگا کر بھاگ جاتا تھا ،میڈیا میں کافی مشہور ہوا۔ حکومت وقت نے اس کے خلاف ایکشن لیا۔اور پولیس خاصی جانفشانی سے اس کو تلاش کرنے لگی۔بد قسمتی سے اس کی اور میری شکلیں کافی ملتی جلتی ہیں۔ ہفتے کے دن بچوں سمیت بیگم کے ساتھ زاہد نہاری کھانے طارق روڈ جانا ہوا۔ یونیورسٹی روڈ سے جیسے ہی کشمیر روڈ پر مڑا۔پولیس کی تین گاڑیاں سائرن بجاتی ہوئی آگے نکل گئیں اور ایک دم سے بریک لگاکر میری کار کو چاروں طرف نرغے میں لے لیا۔ ہم سب حیران و پریشان کہ ہم نے کون سا جرم کرلیا ہے۔ اچانک میرے ذہن میں آیا،کہ شاید کابل سے کسی نے میرے خلاف مخبری کی ہوگی، کہ یہ بندہ مشکوک ہے۔ ایک ڈی ایس پی رینک کا بندہ گاڑی کے پاس آیا۔اور بولا کہ نیچے اتریں۔میں جیسے ہی نیچے اترا۔دو سپاہیوں نے مجھے جکڑ لیا۔ میں نے جرم کا پوچھا۔تو بتایا کہ وزیراعلیٰ اور حکومت وقت کی توہین کرتے ہو،اور پوچھتے ہو کہ جرم کیا ہے؟ میں نے کہا! سر میں قائم علی شاہ کی توہین کیسے کرسکتا ہوں؟میں تو کبھی ملا تک نہیں ہوں۔ کہنے لگا تجھے گٹروں پر ڈھکن لگانے کا بڑا شوق ہے نا، تو تیرا شوق ہم پورا کرا دیتے ہیں۔ اچانک سے میرے ذہن میں جھماکہ ہوا،کہ یہ لوگ مجھے عالمگیر خان سمجھ رہے ہیں۔ شناختی کارڈ دکھایا،اور دوسرے دستاویزات دکھائے،کہ جناب میں عارف خٹک ہوں۔ آپ کو شدید غلط فہمی ہوئی ہے۔میں گٹر پر ڈھکن لگانے کا شوقین ہوں،مگر وہ گٹر کراچی والے نہیں ہوتے۔ ۔۔۔۔بڑی مشکل سے جانے دیا گیا۔ ایک دن بیگم کے ساتھ طارق روڈ پر ہی خریداری ہورہی تھی۔ اب یہ بتانے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے کہ بیگم کے ساتھ خریداری کیسے ہوتی ہے۔ اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ اور دوسروں کی بیویاں رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں ۔۔اور اپنے شوہروں کی لے رہی تھیں، کہ دیکھو محبت اسے کہتے ہیں۔اب ان کو کیسے بتاتا،کہ بیگم کا ہاتھ چھوڑنے کا رسک اس لیے نہیں لے سکتا،کہ وہ ہاتھ چھڑا کر ہر دکان میں گھسنے کا شوق فرماتی ہے۔اس رومانس میں پیچھے سے کچھ لڑکیوں کی آوازیں آئیں۔کہ دیکھو کیسے آنٹی کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے۔شاید آنٹی پیسے والی ہے اور اسے پھنسایا ہے۔ چلو سیلفیاں لیتے ہیں اس کے ساتھ۔ دیکھا تو چار پانچ جینز پہنے برگر بچیاں مسکراتے ہوئے رستہ روک کر کھڑی ہوگئیں کہ سر پلیز سیلفیاں لینی ہیں آپ کے ساتھ۔ میں حیران وپریشان کہ یا اللہ انعام رانا نے واقعی مجھے سلیبریٹی بنا دیا ہے۔ مگر بچیوں کو دیکھ کر مجھے ہر گز یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ اردو کیسے پڑھ لیتی ہوں گی۔ خیر پرغُرور مسکراہٹ کے ساتھ بیگم کی طرف دیکھا اور اس نے جواب میں لعنت والی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ سیلفیاں ختم ہوتے ہی ایک صحتمند بچی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا کہ سر آٹو گراف پلیز۔۔۔ قلم نکال کر جیسے ہی اس کے مرمریں ہاتھ پر اپنا نمبر لکھنے ہی والا تھا، کہ سر پر گویا پہاڑ سا گر پڑا۔ لڑکی نے پوچھا،کہ سر آپ کو گٹروں پر ڈھکن لگانے کا خیال کب اور کیسے آیا؟ جل بُھن کر جواب دیا،۔۔۔۔۔۔"جدھر ُکھلا گٹر دیکھ لیتا ہوں بس دل کرتا ہے اسے بند کردوں"۔

Comments

Popular posts from this blog

Tasawar E Khuda By Arshad Mehmood

Title:  Tasawar E Khuda Author:  Arshad Mehmood Format:  PDF Price:  Free Urdu Title:  تصور خدا ارشد محمود Download:   click here Note:  All urdu novels and urdu book available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdunovels.co.vu feedback requerd 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حلقہ این اے ۔13 ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی کا افتتاح عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔اس کے لئے بڑی محنت کی گئی ۔نا اہل حکمرانوں نے صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔امیر مقام اور وزیر اعظم صوبائی حکومت  کے وسائل اور محنت پر سیاست کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کا جعلی افتتاح کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کو افتتاح کرنے کا جنون ہے ۔ بڑے شوق سے کرے مگر اپنے وسائل پر ۔ صوبائی حکومت کے منصوبوں پر سیاست نہ کرے ۔امیر مقام چھیڑ چھاڑ نہ کرے اگر آئندہ چھیڑ چھاڑ کی تو وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گا۔ ہم با اختیار ہیں ، یہاں وفاق کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہم صوبے کے حقوق کا تحفظ اور عوام کو حقوق کی فراہمی بخوبی جانتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، سینئر صوبائی وزیر شہرا م خان ترکئی ، رکن قومی اسمبلی عاقب اﷲ خان اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما فضل خان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حلقہ این اے 13 کو گیس کی فراہمی کے منصوبے اور تحصیل پلے گر...

مفتی عدنان کاکا خیل جنت اور ڈاکٹر روتھ فاؤ - بابا کوڈا

تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیں کہ اگر مفتی عدنان کاکا خیل مسلمان گھرانے کی بجائے کسی ہندو یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اپنی خاندانی اقدار کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا، اپنی سوچ کے مطابق جو بہتر سمجھتا، وہ کرتا۔ پھر جب وہ اسی حالت میں مرتا تو شاید جہنم میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر روتھ کے مرنے پر تو بڑی آسانی سے عدنان کاکا خیل نے اسے جہنم جانے کی نوید سنا دی لیکن اگر ڈاکٹر روتھ نے جہنم کے دروازے سے اندر داخل ہونے سے پہلے اللہ سے یہ شکوہ کردیا کہ وہ 50 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہی اور ایک دفعہ بھی اس کے پاس کوئی مفتی عدنان کاکا خیل نہ آیا جو اسے اسلام کی دعوت دیتا اور اسے جہنم سے نجات دلاتا۔ ڈاکٹر روتھ اگر مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ بالکل اسی طرح جیسے عدنان کاکا خیل اگر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو آج مفتی نہ بنا ہوتا۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ ڈاکٹر روتھ کو اللہ نے دماغ دیا تھا، اس نے خود اسلام کیوں نہ قبول کرلیا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ ستر، ستر مرتبہ لوگوں کے گھر دین کی دعوت دینے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سخت بارش، طوفان کے موقع...