Skip to main content

Posts

Showing posts from April, 2015

Download Thehry Pani By Muhammad Fiyaz Mahi

Title: Thehry Pani Author: Muhammad Fiyaz Mahi Price: Free Format: PDF Download:   Thehry Pani By Muhammad Fiyaz Mahi Book Type: Urdu Novels Urdu Title: ٹھہرے پانی محمّد فیاض ماہی Note:  All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book Historical kutab free any time don't forget to bookmark  http://www.urdupunch.co.vu feedback requerd 

ماں میں جلد شادی کرنا چاہتا ہوں اردو تحریر

ماں میں جلد شادی کرنا چاہتا ہوں گناہ سے بچنا چاہتا اپنا آدھا ایمان مکمل کرنا چاہتا ہوں تم کیوں نہیں میری جلد شادی نہیں کرتی ؟ میں ایک عام انسان ہوں 26 سال میری عمر ہے اور میرا گھرانہ مذہبی ہے جہاں نماز روزہ دین کو بہت اہمیت دی جاتی ہے مگر یہ اہمیت صرف نماز روزہ تک ہی ہے جو حکم اسکے علاوہ ہے وہ ہمارے خاندان میں پورتے نہیں ہوتے۔ میں نے سکول کالج یونیورسٹی سے لے کر ہر ادارے میں اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی اللہ کی طاقت سے سے کوشش کی میرے دوست گرل فرینڈز بناتے تھے برے کام  کرتے تھے ڈیٹیں مارتے تھے مگر میں نے ہمیشہ سوچا میں یہ سب کام حلال طریقے سے کروں گا جب میری عمر 24 سال ہوئی تو مجھے شدید شادی کی طلب ہونے لگی مجھے اپنے آپ کو برائی سے بچانا شدید مشکل ہوگیا میں نے اپنے گھر والوں کو کہنا شروع کیا اب وقت آگیا ہے میری شادی کر دیں میں نے پڑھائی مکمل کر لی ہے جاب بھی کرتا ہوں ایک میڈیا چینل میں مگر میرے گھر والوں نے شدید اعتراضات اٹھانے شروع کئے ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے میں نے انکو قرآن احادیث سے ریفرنس دئے مگر انہوں نے اسکو یہ کہ کر پرے کر دیا باقی اسلام کی باتیں بھی مانوں ا...

گستاخی دلکش تحریر

گستاخی ایک محترم کا اعتراض آیا ،آپ نے پہلو میں کیوں رکھا ہوا ہے خدا کو ، دل میں کیوں نہیں رکھتی،، یہ گستاخی ہوئی جناب ... ہیں ؟؟ گستاخی ؟؟ میں نے اپ سے پوچھا ، دل کہاں ہوتا ہے ،میرے خیال کے مطابق تو پہلو میں ، کہیں آپ کے خیال محترم کے مطابق ، دل، پاؤں میں تو نہیں ہوتا ؟؟ .. اب کہو گے توبہ توبہ ، الله کا نام لے رہی ہو ، ساتھ میں پاؤں کا ذکر کاہے کو کرتی ہو بی بی ؟؟ بے ادب .. اچھا میں بے ادب ہوں .. ٹھیک ہے .. تم محترم یہ بتاؤ ، وہ حدیث سن رکھی ہے جس میں کہا جاتا ہے ، تم "اس" کے کاموں میں مشغول ہو جاؤ تو وہ تمہارے ہاتھ بن جاتا ہے ، جس سے تم کام کرتے ہو ، ، وہ تمہاری آنکھ ، کان بن جاتا ہے، جس سے تم دیکھتے ، سنتے ہو .. وہ تمہارے پاؤں بن جاتا ہے، جب تم چلتے ہو " اب بتاؤ، یہ سب کیا تھا ؟؟ اگر میں نے تمہیں یہ بتا دیا کے میں دعا کیسے مانگتی ہوں تو تم نے مجھے حد ادب کہہ کہ جوتا اٹھا لینا ہے ، دیکھو ، میں اسکی چادر کا کونہ پکڑ لیتی ہوں ، اور تب تک نہیں چھوڑتی جب تک، دل مطمئن نہ ہوجاے، (دعا قبول ہو یا نہ ہو) اب تمآرا اگلا اعتراض، چادر ؟؟ الله چادر کا محتاج نہیں .... سنو یہ نہ...

ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺑﻮ ﯾﺤﯿٰﯽ

ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ........ !! ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﻥ ﮐﮭﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ... " ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆﻋﻮﺭﺕ ‘‘ , ﻭﮦ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﻮﺵ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ... ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻟﻤﺤﮧ ﺑﮭﺮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ ... ’’ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ... ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺍﺳﮯ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﻨﺪ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ‘‘ ﯾﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﺘﮯ ﻓﻮﺍﺣﺶ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﻻﮞ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺭﮨﮯﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮈﻝ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻧﺎﻣﻨﺎﺳﺐ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﭘﯿﺶ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺳﻨﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺟﻤﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺟﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻔﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﭼﺎﮨﯽ ﮐﮧ ﯾﮏ...

ٹیلی ویژن میزبانی کے رہنما اصول مستنصر حسین تارڑ

جیسے یکدم کوئی فیشن چل نکلتا ہے….ہر نوجوان ایم بی اے کرنے لگتا ہے…. ہر لڑکی ڈھیلے ڈھالے پاجامے پہننے لگتی ہے …. ہر بوڑھا دوسری شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی ان دنوں ٹیلی ویژن میزبان بن جانے کا رواج نہایت پاپولر ہو گیا ہے… ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سوائے میرے سبزی والے اللہ رکھا کے اور دودھ والے دین پناہ کے ہر شخص ٹیلی ویژن پر میزبانی کے فرائض سرانجام دینے لگا ہے… کوئی دن جاتا ہے جب اللہ رکھا اور دین پناہ بھی کسی کُکنگ شو کی میزبانی کر رہے ہوں گے... چونکہ میڈیا پر میزبانی سے میرا بھی جائز تعلق رہا ہے اس لئے آئے دن میزبان بننے کے شائق نوجوان اور لڑکیاں مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں تا کہ اس سلسلے میں ان کی کچھ رہنمائی کروں اور انہیں میزبانی کے رموز اور خفیہ نسخے بتا کر ان کا مستقبل درخشاں کردوں... پچھلے زمانوں میں ٹیلی ویژن میزبان ایک ہی قسم کا ہوا کرتا تھا…. خالص اردو اور پنجابی میں بات کرتا تھا، انگریزی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتا تھا کہ اس کی انگریزی صرف ” گڈبائے اور بائے بائے ” تک محدود ہوتی تھی…. موقع ہو نہ ہو اپنی تقریر دل پذیر میں شعر ٹانکتا جاتا تھا…. مہ...

Download Farnood By Joun Elia

Book Title : Farnood Author Name : Joun Elia Book Type : Urdu Novel Urdu Title : فرنود جون ایلیا Price : Free Download :  Farnood Format : PDF Note:  All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book Historical kutab free any time don't forget to bookmark  http://www.urdupunch.co.vu feedback requerd 

Download Mujahideen E Ghazwa E Hind Zaid Hamid

Book Title : Mujahideen E Ghazwa E Hind Author Name : Zaid Hamid Book Type : Urdu Historical Novel Urdu Title : مجاہدین غزوہ ہند زید حامد Price : Free Download :  Click Here Format : PDF Note:  All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book Historical kutab free any time don't forget to bookmark  http://www.urdupunch.co.vu feedback requerd 

Download Shayad By Joun Elia

Book Title : Shayad Author Name : Joun Elia Book Type : Urdu Poetry Urdu Title : شاید جون ایلیا Price : Free Download : Click Here Format : PDF Note:  All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book free any time don't forget to bookmark  http://www.urdupunch.co.vu feedback requerd 

جانتی ھوں کہ وہ خفا بھی نہیں زاھدہ حنا

زاھدہ حنا جون ایلیاء کی دو دھائیوں تک رفیقِ حیات رھیں۔ وقت کا سِتم کہ پھر اُن میں علیحدگی ھو گئی۔ جون پر اِس سانحے کا جو اثر ھُوا سو ھُوا وہ ھم ان کی شاعری میں محسوس کر سکتے ھیں۔ لیکن زاھدہ حنا کی یہ غزل اُن کے دُکھ کو بھی کُھل کے بیاں کرتی نظر آتی ھے۔ جو شاید آپ دوستوں کے لیے نئی ھو۔ آپ کی بصارتوں کی نذر. تصویر میں دونوں اپنی اولاد کے ساتھ خوش و خرم بیٹھے ھیں۔ جانتی ھوں کہ وہ خفا بھی نہیں دل کسی طور مانتا بھی نہیں کیا وفا و جفا کی بات کریں درمیان اب تو کچھ رھا بھی نہیں درد وہ بھی سہا ھے تیرے لیے میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں ھر تمنا سراب بنتی رھی ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں ھاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں دل کو اب تک یقین آ نہ سکا یوں نہیں ھے ، کہ وہ ملا بھی نہیں وقت اتنا گزر چکا ھے حنؔا جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں ”زاھدہ حنا“

Download Awara Mizaj By Farhat Abbas Shah

Title: Awara Mizaj Author: Farhat Abbas Shah Price: Free Type: Novel Book Download:  Click Here Urdu Title: آوارہ مزاج فرحت عباس شاہ Note:  All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark  http://www.urdupunch.co.vu feedback requerd 

انس معین کا آخری خط

آنِسؔ مُعین کا آخری خَط زندگی سے زیادہ عزیز امّی اور پیارے ابّو جان! خُدا آاپ کو ہمیشہ سلامت اور خُوش رَکھّے۔ میری اِس حرکت کی سوائے اِس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ مَیں زندگی کی یکسانیت سے اُکتا گیا ہوں۔ کتابِ زِیست کا جو صفحہ بھی اُلٹتا ہوں اُس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحے پر پڑھ چُکا ہوتا ہوں۔ اِسی لیے مَیں نے ڈھیر سارے اَوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جو آخری صفحے پر لکھّی ہوئی ہے۔ مُجھے نہ تو گھر والوں سے کوئی شکایت ہے نہ دَفتر یا باہر والوں سے۔ بلکہ لو گوں نے تو مُجھ سے اِتنی محبّت کی ہے کہ مَیں اس کا مُستحق بھی نہیں تھا۔ لوگوں نے میرے ساتھ اگر کوئی زیادتی کی بھی ہے یا کِسی نے میرا کُچھ دینا بھی ہے تو مَیں وہ مُعاف کرتا ہوں۔ خُدا میری بھی زیادتیوں اور گُناہوں کو مُعاف فرمائے۔ اور آخِر مِیں ایک خاص بات وہ یہ کہ وقتِ آخِر میرے پاس راہِ خُدا مِیں دینے کو کُچھ نہیں ہے۔ سَو مَیں اپنی آنکھیں Eye Bank کو Donate کرتا ہوں۔ مِیرے بَعد یہ آنکھیں کِسی مُستحق شخص کے لگا دی جائیں تو مِیری رُوح کو حقیقی سکُون حاصِل ہو سکنے کی اُمّید ہے۔ مَرنے کے بَعد مُجھے آپ کی دُعاوں کی ...

غبارے اردو تحریر

پچاس لوگوں کا ایک گروپ ایک سیمنار اٹینڈ کر رہا تھا.. مائیک پر ایک صاحب خطاب کر رہے تھے.. اچانک خطاب کرنے والے صاحب رک گئے اور انھوں نے سوچا کچھ گروپ ایکٹویٹی (کھیل تماشہ) شروع کیا جائے.. انھوں نے کچھ غبارے منگوائے اور پچاس لوگوں کو غبارے دے دیے.. انھیں کہا کہ ان غباروں کو پھلاو اور مارکر سے ان پر اپنا نام لکھو.. سب نے ایسا ہی کیا.. غبارے پھلا کر مارکر سے ان پر اپنا اپنا نام لکھ دیا گیا.. اسپیکر صاحب نے سب سے غبارے جمع کیے اور ایک کمرے میں رکھ دیے.. اب کمرے میں پچاس غبارے تھے. . اسپیکر صاحب نے پچاس لوگوں کو کہہ دیا کہ کمرے میں گھس جاو اور اپنے اپنے نام کے غبارے ڈھونڈھو.. اب کمرے میں ہجوم سا لگ گیا.. ہر کوئی اپنے غبارے کی تلاش میں تھا لیکن کسی کو کامیابی نہیں ہو رہی تھی.. لوگ ایک دوسرے میں ٹکراتے پھر رہے تھے.. اسپیکر صاحب کی آواز کمرے میں گونجی.. "اپنے نام کے غبارے نہیں مل رہے..؟ یوں کرو آپ کے ہاتھ جو بھی غبارہ لگتا ہے اس پر لکھا نام پکارو جس کا غبارہ ہے اسے پہنچا دو.." ایسا ہی کیا گیا اور پانچ منٹ میں سب کو اپنے اپنے نام کا غبارہ موصول ہو گیا.. اب اسپیکر صاحب گویا ہوئے.. ...

Shab E Rafta Ke Baad By Majeed Amjad

Title: Shab E Rafta Ke Baad Author: Majeed Amjad Price: Free Type: Poetry Book Download:  Click Here Urdu Title: شب رفتہ کے بعد مجید امجد Note:  All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark  http://www.urdupunch.co.vu feedback requerd 

ایک سچ ایک سبق

اندلس کا آخری بادشاہ ابو عبداللہ محمد زاروقطار رورہا تھا ۔ اس کی نظریں نیچے گہرائی میں الحمرا شہر کی طرف تھی ۔ اس نے اپنے دور حکومت میں بے شمار غلطیاں کی تھی۔ اب یہ غرناطہ کی ایک پہاڑی پر کھڑا اپنی ڈوبتی ہوئی سلطنت کو آخری بار دیکھ رہا تھا ۔ اس موقع پر عبد اللہ کی ماں ، جس نے بیٹے کو گھوڑے سے اترتے ، زمین پر بیٹھتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ،نے اس نالائق اور کوتاہ فہم بادشاہ کے کندھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور دکھ میں بھیگی آواز یہ تاریخی جملہ کہا ۔ " بدنصیب بادشاہ تم جس سلطنت  کو مردوں کی طرح بچا نہ سکے عورتوں کی طرح اب اس کے لیے آنسو نہ بہائو " ۔ یہ وہی بادشاہ ہے جس نے فرنینڈس سے لڑائی کے وقت اپنے مشیروں اور علماء سے مشورہ کیا تھا کہ لڑائی کی جائے یا نہیں ، تو اس وقت کے علماء نے بھی مشورہ دیا تھا کہ لڑائی نہ کی جائے ورنہ ہم ماریں جائیں گے اور صلح کی طرف ہاتھ بڑھایا جائے ، پھر ایسا ہی ہوا صلح ہو گئی لیکن چند مہینوں پر عیسائیوں کی طرف سے ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم ہوا کہ ہلاکو خان کی روح بھی کانپ گئی ، اور ان مشیروں ، وزیروں اور علماء کے سر چوکوں میں لٹکائے گئے ۔ ۔ آج پاکستا...

گل نو خیز اختر colum

گل نو خیز اختر کچھ لوگ بڑے نجومی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔مثلاً ایک لڑکی تاریکی میں گھر سے فرار ہوگئ۔۔۔۔۔اس کی ماں صبح اٹھ کر رونے پیٹنے لگ گئ۔۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی تھی۔۔۔۔۔ "ہائے میری بیٹی تو ولی تھی۔۔۔۔۔اللہ کی نیک بندی تھی۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ اتنی بڑی نجومی تھی۔۔۔۔۔" ایک ہمسائی نے پوچھا۔۔۔۔۔"ہوش کے ناخن لو۔۔۔۔۔تمھاری بیٹی گھر سے بھاگ گئ ہے اور تم کہہ رہئ ہو کہ وہ ولی تھی، نجومی تھی۔۔۔۔۔" ماں نے آنسو پونچھے اور عقیدت سے بولی۔۔۔۔۔"اے بہن۔۔۔۔۔وہ واقعی نجومی تھی۔۔۔۔۔میں ہی کم بخت اس کی قدر نہ کرسکی۔۔۔۔۔۔اب دیکھو نہ رات سونے سے پہلے اس نے مجھے کان میں بتا دیا تھا کہ، "اماں کل ہمارے گھر کا ایک فرد کم ہوجائے گا۔۔۔۔۔" تو جناب! اس لحاظ سے میں بھی نجومی ہوں اور اپنے اسی فن کی بدولت میں نے آپکے مستقبل کا حال معلوم کیا ہے۔۔۔۔۔ تاہم یاد رکھئے میرا یہ سارانجوم صرف مردوں کے لیے ہے۔۔۔۔۔خواتین اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتیں۔۔۔۔۔تو پھر آیئں اور دیکھئے ستاروں کی روشنی میں کہ آپ کا برج الٹ رہا ہے یا سنور رہا ہے!!! ARIES (حمل) چونکہ آپکے برج کا اردو ترجمہ بڑا خطر...

آج سے دو ہزار سال قبل کی ایک آفاقی نظم

کیلٹی ادب سے چوتھی صدی عیسوی یعنی آج سے دو ہزار سال قبل کی ایک آفاقی نظم ۔ اس نظم کی گونج دنیا کی مختلف زبانوں، بشمول اردو، کی شاعری میں آج بھی سنی جا سکتی ہے۔ " اوسین کی پشیمانی ضعیفی میں" آج کی رات مجھ پہ غم کے لمبے سائے ہیں  میرے لیے گذشتہ رات بھی کافی طویل تھی یہ دن کٹھن اور دشوار گزار راستے پر سر گرمِ سفر ہے تھکا دینے والے دیروز کے بطن سے ابھرا ہے آنے والا ہر دن میرے لیے طویل ہوتا ہے حالانکہ پہلے اس طرح کی بات نہ تھی اب تو سچی خوشی بھی مجھ سے روٹھ کر کوسوں دور چلی گئی ہے نہ رزم گاہ ہے نہ جنگ کی تیغ زنی نہ سریلے گیت ہیں، نہ دل کو گرمانے والی موسیقی اور نہ ہی عورتوں کا حسن و جمال نہ دہکتی ہوئی انگھٹی ہے اور نہ کھانوں کا انبوہ اور نہ ہی فراخ دل مالک کا اہتمامِ ضیافت نہ غزالوں کا تعاقب، نہ راز و نیاز کی باتیں اب تو عزیز سے عزیز تر بھی مجھ سے تجارت کی زبان میں بات کرتا ہے افسوس! میں یہ دن دیکھنے کو زندہ رہا ہر دن جو گوشہ ء مکان میں خوشیوں سے خالی گزرتا ہے شکاریوں کو چونکا دینے والی صدا کے بغیر نہ ہی شکاری کتوں کے بھونکنے کی صدا آتی ہے لطیف مذاق سے عاری اور خوش طبعی کی ت...

شادی شدہ زندگی۔۔۔

شادی شدہ زندگی۔۔۔ ٭۔ کامیاب شادی کا راز اچھے ساتھی کے انتخاب سے زیادہ اچھا ساتھی بننے میں ہے پوشیدہ ہے۔ ٭۔ اکثر لڑکیاں فوجیوں اور سپاہیوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں کیونکہ وہ کھانا پکا سکتے ہیں، سلائی کر سکتے ہیں، بستر ٹھیک کر سکتے ہیں، بچے سنبھال سکتے ہیں، اچھی صحت رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر انہیں حکم ماننے کی عادت ہوتی ہے۔ ٭۔ شادی نہیں، لوگ ناکام ہوتے ہیں، شادی تو صرف انہیں آئینہ دیکھاتی ہے۔ ٭۔ شادی ایک ایسا جوا ہے جس میں بیک وقت دونوں فریق یا تو ہارتے ہیں، یا پھر دونوں  جیتتے ہیں۔ ٭۔ شادی کی کامیابی کیلئے ہمیشہ دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ناکامی کیلئے صرف ایک کی۔ ٭۔ شادی کرنسی نوٹ کی طرح ہوتی ہے، اِسے دو الگ الگ حصے کر کے چلایا نہیں جا سکتا۔ ٭۔ کامیاب خاوند وہ ہے جو بیوی کے اخراجات سے زیادہ کمائے، اور کامیاب بیوی وہ ہے جو ایسا خاوند ڈھونڈ لے۔ ٭۔ شادی دولت کی طرح ہوتی ہے، حاصل کرنے سے زیادہ سنبھال کے رکھنا مشکل ہوتا ہے۔